ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منی پورمیں سڑک سے ناکہ بندی ہٹتے ہی تشدد کی پھر واردات، چراچندپور میں کوکی لیڈر کا گھرکیا گیا نذرِ آتش

منی پورمیں سڑک سے ناکہ بندی ہٹتے ہی تشدد کی پھر واردات، چراچندپور میں کوکی لیڈر کا گھرکیا گیا نذرِ آتش

Tue, 04 Jul 2023 21:32:00    S.O. News Service

امپھال، 4/جون (ایس او نیوز/ایجنسی) منی پورمیں امپھال-دیماپور قومی شاہراہ (نیشنل ہائی وے-2) پر جاری ناکہ بندی ہٹنے کے بعد تشدد کا تازہ دور شروع ہو گیا ہے جس میں چراچندپور ضلع کے کوکی نیشنل آرگنائزیشن (کے این او) کے لیڈر اورترجمان سیلین ہاؤکپ کے گھر کو شورش پسندوں نے نذرآتش کردیا ہے واردات پیر کو پیش آئی۔ ہاؤکپ نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ جس وقت یہ واردات پیش آئی،ان کے مکان پر کوئی موجود نہیں تھا۔ خیال رہے کہ 3 مئی کو تشدد شروع ہونے کے بعد سے متعلقہ نیشنل ہائی وے پر ناکہ بندی لگائی گئی تھی۔ اب دو ماہ بعد ناکہ بندی ہٹاتے ہی پھرتشدد کی واردات پیش آئی ہے۔

منی پور پولیس کو شک ہے کہ تازہ واردات کے پیچھے کوکی-زومی طبقہ کے لوگوں کا ایک چھوٹا طبقہ شامل ہے، جنھوں نے ناکہ بندی واپس لینے کی حمایت نہیں کی تھی۔ ہاؤکپ کے مطابق ناکہ بندی ہٹانے کا فیصلہ مختلف سماجی تنظیموں، گرام پردھانوں، نوجوانوں اور خواتین لیڈروں کے ساتھ وسیع غوروخوض کے بعد لیا گیا تھا۔

اس سے قبل اتوار کو کوکی نیشنل آرگنائزیشن (کے این او) اور یونائٹیڈ پیپلز فرنٹ (یو پی ایف) نے مشترکہ طورپر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی گزارش پر امن اور خیر سگالی بحال کرنے کی گہری فکر کو دھیان میں رکھتے ہوئے منی پور کی لائف لائن تصور کیے جانے والے سڑک پر سے ناکہ بندی ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ ناکہ بندی کے حامی بعض طبقات اس سے متفق نہیں تھے۔

قومی شاہراہ سے ناکہ بندی ہٹانے کے فیصلے سے تقریباً 54 دنوں کے بعد نیشنل ہائی وے پر ضروری سامان لے جانے والی گاڑیوں کی آمد ورفت دوبارہ شروع ہو گئی۔ 3 مئی کومنی پور میں بھڑکے نسلی تشدد کے مدنظر مختلف تنظیموں کے ذریعہ سڑک پر ناکہ بندی لگائے جانے کے بعد سے منی پور میں ضروری سامانوں کی قلت ہو گئی تھی۔ ریاست میں بار بار ہونے والے تشدد میں اب تک 100 سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں اور کروڑوں کی ملکیت  تباہ ہوچکی ہے جبکہ تشدد کی وارداتوں کے بعد ہزاروں لوگ نقل مکانی بھی کرچکے ہیں۔


Share: